باپتا
"کیسا لگا ہمارا گاؤں؟ بڑی دیر لگا دی۔"
"اچھا ہے ماموں۔ بس ایک فقیر رستے میں لیٹا تھا، اس نے دیر کروا دی۔ پتہ
نہیں کیسی فیملی ہے اس کی، جو اس کا خیال بھی نہیں رکھتی اوراسے یوں ہی سب کو پریشان کرنے کے لیئے چھوڑ رکھا
ہے۔"
ماموں نے غور سے مجھے دیکھا اور اخبار تہہ کر کے رکھتے ہوئے مجھے پاس بٹھا
لیا۔
"کہو تو آج تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں۔"
"جی ضرورسنائیں۔ اپنا تو پیشہ ہی یہی ہے۔" میں نے چائے کا ایک کپ ان
کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
"ایک نوجوان تھا ہمارے گاؤں میں۔۔۔ بڑا پیارا سا۔۔۔ من موہنا سا۔ ہر
دلعزیز لڑکا تھا۔ کاشف نام تھا۔ مسکراتی آنکھوں والا کاشف۔ اس نے بچپن سے اپنی
فیملی کو بُرے حالات میں دیکھا تھا اور بڑے بھائیوں کو نکما دیکھ کر شروع سے کچھ
انوکھا کرنا چاہتا تھا تا کہ فیملی کے حالات بدل سکے۔ کہیں سے اس کے سر میں سودا
سما گیا کہ کم وقت میں زیادہ کام کرنا ہو تو تعلیم ہونا ضروری ہے۔ اسی خواب کے
پیچھے بھاگتا رہا اور خوش قسمتی سے اسے سچ بھی کر دکھایا۔ چھوٹی سی عمر میں سکول
سے چھٹی کے بعد نزدیکی قصبے میں جاتا اور چھوٹی موٹی چیزیں دکانوں سے لے کر
راہگیروں کو بیچتا اور پڑھائی کا خرچ نکالتا۔ کئی لوگ اس کی بھولی صورت اور معصوم
سیاہ آنکھیں دیکھ کر صرف مدد کی نیت سے اس کی چیزیں خرید لیتے تھے۔ اس کی فیملی پہ
بوجھ نہ پڑا تو انہوں نے پڑھائی سے بھی نہ روکا۔ عمر کے ساتھ ساتھ اس کے کام بھی
بڑے ہوتے گئے اور پڑھائی بھی آگے بڑھتی گئی، یہاں تک کہ اس نے کئی دوستوں کے
کاروبار میں اپنی رقم انویسٹ کر لی اور ساتھ اپنی ٹیوشن اکیڈمی بھی کھول لی۔ گھر
کی حالت بہتر ہوئی، بھائیوں کو مختلف روزگاروں پہ لگا دیا اور پھر ایک پیاری سی
لڑکی سے شادی کر لی۔"
"ماموں، خاصی بور کہانی لگ رہی ہے۔ یہ تو ہر مڈل کلاس بندے کی زندگی کی
تصویر ہے۔"
ماموں بولتے رہے۔
" اس کا اکلوتا شوق انگلیڈ جانے اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے کا تھا۔
اپنی تمام محنت کے دوران یہ خواب اسے ستاتا رہا۔ ویزے کے سلسلے میں وہ اکثر میرے
پاس آتا تھا۔ میں نے پورے دل سے کوشش جاری رکھی لیکن کسی نہ کسی باریکی کی وجہ سے
اس کا ویزہ لیٹ ہوتا گیا۔ ویزے کے لیئے اس نے اپنی شبانہ روز محنت سے کمائے ہوئے
پیسے کا ایک بڑا حصہ لگا دیا تھا۔"
"شادی کے ایک سال بعد اس کا بیٹا پیدا ہوا۔ کچھ مہینوں میں بچے کی
قلقاریوں نے کاشف کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیا۔ جتنا ہو سکتا، وہ بچے کے ساتھ
وقت گزارتا، ہر جگہ اسے ساتھ لیئے گھومتا، چوبیس گھنٹے اسے اپنے سامنے دیکھنا
چاہتا۔ کوئی بھی موقع ہوتا، کاشف کے کندھے پر اس کا گُڈا سا بیٹا ساتھ ہوتا۔ بچے
کی دوستی غیر رسمی طور پر اپنی ماں سے زیادہ باپ سے تھی۔ کئی مرتبہ بچے کے اشاروں
کو سمجھنے کے لیئے اس کی ماں کو شوہر سے رابطہ کرنا پڑتا۔ کاشف کو جب بھی گھر کی
طرف جاتے دیکھا، کوئی کھلونا، کوئی کھانے پینے کی چیز اس کے ہاتھ میں ہوتی۔ بعض
اوقات لوگ اسے ٹوکتے کہ اسے بگاڑ رہے ہو، مگر وہ ہنس کے ٹال دیتا۔ جذباتی تو وہ
شروع سے تھا لیکن بچے کے معاملے میں حد تھی کہ بچے نے کسی کو سگریٹ پیتے دیکھ کر
ضد شروع کر دی اور کاشف نے سب کی مخالفت کے باوجود دکان سے نیا پیکٹ لا کر بچے کے ہاتھ میں تھما دیا۔ کئی بار ایسا
بھی ہوا کہ بیٹے کی یاد دن کو ستاتی اور وہ اکیڈمی کسی دوسرے کے سپرد کر کے فوراً
گھر آ جاتا۔ ننھا بچہ بھی باپ کا ایسا شیدائی تھا کہ کاشف کے موٹر سائیکل کا ہارن
پہچان کر ڈگمگ کرتا دروازے کی طرف بھاگتا تھا۔ ہر باپ کی طرح کاشف کی بھی دن بھر
کی تھکن بمشکل چلتے گوگلو کی بھاگنے کی کوشش دیکھ کر اتر جاتی اور وہ قہقہہ لگا کر
اسے اٹھاتا کیا۔۔۔گویا کہ ہواؤں میں اڑنے لگتا۔"
"انہی دنوں، گاؤں میں نیا فتنہ کھڑا ہو گیا۔ ہمارے چھوٹے سے مدرسے کے
کہیں دور دراز سے آئے ہوئے معلم نے ملک رب نواز کے بیٹے کو بید رسید کر دیئے۔ رب
نواز کو جاننے والے سکول کے استاد ایسی "گستاخی" کی جرات نہیں کرتے تھے۔
ان مولوی صاحب کو بھی یار لوگوں نے سمجھایا تھا کہ احتیاط کریں، لیکن وہ اصول پسند
واقع ہوئے تھے، انصاف کا بول بالا کرنے کے چکر میں پڑے۔ ملک کا دماغ عموماً چھٹی
پر رہتا تھا۔ اس نے اپنے مشٹنڈے دو تین ٹریکٹروں پر بٹھائے اور مدرسے سے ملحقہ
مولوی صاحب کے لیئے بنایا گیا چھوٹا سا گھروندا مسمار کرنے چل دیا جو کہ گاؤں
والوں نے خود بنا کر دیا تھا اور جس کے گرنے سے مولوی صاحب کا کوئی ذاتی نقصان
نہیں ہونے والا تھا۔ مقصد شاید محض دھمکانا رہا ہو۔ اتفاقاً اس دن مولوی صاحب کا
سالا اپنے بچوں کو ساتھ لے کر یہاں آیا ہوا تھا۔ لوگ جمع ہو گئے اور ملک کے بندوں
کو روک لیا مگر غضب یہ ہوا کہ اس شور شرابے اور ٹریکٹروں کی بھاگ دوڑ میں مولوی
صاحب کا چھوٹا بھانجا ٹریکٹر کی زد میں آ گیا۔ معصوم نے موقع پر دم دے دیا۔ ملک
اور اس کے مشٹنڈے ٹریکٹر ادھر ہی چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ لواحقین نہایت غمزدہ حالت
میں آبائی علاقے کو روانہ ہوئے۔ گاؤں کے معزز لوگوں نے اپنے پگڑیاں معزز مہمانوں
کے قدموں میں ڈال دیں، لیکن ایسی جذباتی التجائیں ان کے غم کا مداوہ کرنے کے لیئے
انتہائی ناکافی تھیں۔ مولوی صاحب کا پھر کچھ اتا پتہ نہ ملا۔
وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے چلتا رہا۔ سانحے کی گرد رفتہ رفتہ بیٹھ رہی تھی جب
ایک صبح ملک کی لاش اس کی گلی سے ملی۔ اس کی ظالمانہ طبیعت اور بے شمار دشمنیوں کی
وجہ سے لوگ یہ فیصلہ کرنے سے قاصر رہے کہ ملک کا قتل مولوی صاحب کے بھانجے کی
حادثاتی موت کا نتیجہ تھی یا یہ کسی اور دشمنی کا نتیجہ تھا۔ پولیس ہماری بہت
معصوم ہے۔ اس سے کوئی معاملہ سلجھایا نہیں جاتا۔ ہر کچھ دن بعد ایک نیا اغوا۔۔۔ ہر
کچھ دن بعد ایک نئی لاش۔ ملک کے فیملی ممبرز ٹارگٹ بن رہے تھے۔ سیانے لوگوں نے چپ
سادھ لی تھی لیکن کاشف۔۔۔" ماموں کچھ دیر کے لیئے رُک گئے۔
"مسکراتی آنکھوں والا کاشف ۔۔۔ جذباتی تھا۔ اس نے کھل کر مولوی صاحب اور
ان کے سالے پر الزام تراشی شروع کر دی اور تفتیشی افسران سے مِل کر کاروائی آگے بڑھانے
میں مدد دینے لگا، میں نے اسے ایسی حماقت سے دور رکھنے کی بہت کوشش کی۔۔۔ ذاتی طور
پر میں اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا، مگر اس نے کسی کی نہیں سنی۔ تفتیش کا
رُخ ویسے بھی مولوی صاحب اور ان کے سالے کی طرف مُڑ ہی جانا تھا لیکن کاشف کے واضح
بیانات کی وجہ سے پولیس ان لوگوں کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑ گئی تھی۔ مجھے لگا کہ اب
اس کا باہر چلے جانا ہی بہتر ہے، میں نے اپنی کوششیں تیز کر دیں اور آخر ایک دن
اسے ویزہ لگنے کی خوش خبری سنانے اس کی اکیڈمی جا پہنچا۔ چھوٹے سے دفتر میں اس نے
بیٹے کی بڑی سی مسکراتی ہوئی تصویر آویزاں کی ہوئی تھی۔ ٹیبل پر ایک نفیس فریم میں
باپ بیٹے کی تصویر سجی تھی، جس میں بچہ کاشف کے کندھوں پر اس کے بال پکڑے مسکرا
رہا تھا۔ مجھے خوش خبری کے جواب میں اس نے چائے پلائی اور انگلینڈ جانے سے معذرت
کر لی۔ میں ہونقوں کی طرح اس کی سیاہ آنکھوں کی چمک کو دیکھتا رہا اور وہ بتاتا
گیا کہ وہ بیٹے سے دور جانے کے خیال سے بھی کانپ اٹھتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ مختصر
میعاد کے اندر اگر ویزہ کسی اور کے کام نہ آ سکا تو اس کا لاکھوں کا نقصان ہونے
والا تھا۔ بہتیرا سمجھایا، مگر اس نے سمجھنا تھا، نہ سمجھا۔۔۔مسکراتے ہوئے فریم
میں سجی تصویر کو دیکھتا رہا ۔ ۔ ۔ ہاں۔۔۔ شاید عشق کا روگ ہی ایسا ہے! غالب نے
اسی آگ کے لیئے کہا تھا کہ جلائے نہ جلے اور بجھائے نہ بنے!"
"۔۔۔پھر ایک دن کاشف کو اکیڈمی میں ایک انجان نمبر سے ایس ایم ایس موصول
ہوا جس میں فقط یہ کہا گیا تھا کہ 'اب تم میرا درد سمجھ پاؤ گے۔' ناقابلِ فہم بات
پڑھ کر اسے نجانے کیا محسوس ہوا ہوگا۔۔۔میں وہاں موجود ہوتا تو بہتر بیان کر سکتا۔۔۔
کسی انجانے خوف کے تحت وہ آندھی اور طوفان کی طرح گھر پہنچا تھا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔آج
ڈولتے قدموں کے ساتھ استقبال کرنے والا فرشتہ نجانے کہاں تھا۔ اس نے عورتوں کو صحن
میں بیٹھا دیکھا۔۔۔ درمیان میں چارپائی بچھی تھی۔۔۔جس پر سفید چادر سے کچھ ڈھانپا
گیا تھا۔"
کمرے میں گھٹن ہو گئی تھی ۔ میں نے چائے کا کپ اٹھایا اور کھڑکی کے پاس کھڑا
ہو گیا۔ دور سے آتے اسی بے ہنگم حلیئے والے فقیر کو دیکھنے لگا جس کی وجہ سے مجھے
واپسی میں تاخیر ہوئی تھی۔ ماموں کہہ رہے تھے۔۔۔
"ننھے منے بچوں کو انتقام کی بھینٹ چڑھانا ۔۔۔ سمجھ سے بالاتر ہے۔"
چائے کا ذائقہ کڑوا محسوس ہونے لگا تھا۔
"کاشف سے رابطے کی بہت کوشش کی گئی تھی، لیکن کاشف کو بچے کے لیئے شاپنگ
کرتے وقت موبائل کی گھنٹی کا کچھ ہوش نہ تھا۔ اب وہ لڑکھڑاتے ہوئے آگے بڑھ کر چادر
ہٹانا چاہ رہا تھا مگر اس کی بیوی اور اس کی ماں۔۔۔اس سے لپٹی دھاڑیں مار کر رو
رہی تھیں۔ کاشف کچھ بھی سمجھ نہ پا رہا تھا۔۔۔لیکن کب تک!"
فقیر کسی دروازے کے سامنے آ کر لیٹ گیا تھا۔
"کاشف نے چادر ہٹاتے ہی اسے اٹھا لیا۔ سب کے منع کرنے کے جواب میں وہ یہی
دہرا رہا تھا کہ اس وقت یہ میرے ساتھ گھومنے جاتا تھا۔ آپ سب بیٹھیں۔ میں اسے گھما
کر لاتا ہوں۔ اس کی بیوی کو اپنا ہوش نہ تھا، ماں اسے سمجھانے کی کوشش میں بے حال
ہو رہی تھی ۔۔۔ لیکن وہ کسی کی سننے پر تیار نہ تھا۔ وہ ہنس رہا تھا اور بچے سے
لاڈ کر رہا تھا۔ کچھ لوگوں نے آگے بڑھ کر سفید کپڑے میں لپٹا کاشف کے دل کا ٹکڑا
لینے کی کوشش کی تو کاشف وحشیانہ انداز میں ان پر پل پڑا۔ اتنے لوگوں میں اس کی
وحشت کا جیتنا ممکن نہ تھا۔ وہ زور زور سے ہنسنے لگا۔۔۔ سیاہ چمکدار آنکھوں والا
کاشف۔۔۔ایک ادھ کھلے پھول کو سینے سے بھینچے قہقہے لگا رہا تھا۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔"
ماموں عینک اتار کر اس کا شیشہ صاف کرنے لگے۔
فقیر دروازے سے باہر آنے والے بچے کو اٹھا کر پیار کررہا تھا۔ بچے کا باپ ساتھ
ہی تھا
مگر فقیر کو روکنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔
Muhammad Nouman
0332-5664943
No comments:
Post a Comment